فیڈنگ تھراپی
کھانے میں نخرے کرنے والے بچوں کو پیار سے نئی چیزیں چکھانا۔
یہ کیا ہے؟
بہت سے آٹسٹک بچے گنی چنی چیزیں ہی کھاتے ہیں۔ اس کی وجہ عموماً ضد نہیں، بلکہ کھانے کی بناوٹ، خوشبو یا رنگ سے الجھن، نئی چیز کا ڈر یا ہر بار ایک جیسا کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ فیڈنگ تھراپی، جو اکثر آکیوپیشنل یا اسپیچ تھراپسٹ کرواتے ہیں، بچے کو آہستہ آہستہ نئے کھانوں سے مانوس کرتی ہے۔
اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے
- بچے کی خوراک میں آہستہ آہستہ نئی چیزوں کا اضافہ
- پورے گھر کے لیے پُرسکون دسترخوان
- نئی بناوٹ والے کھانوں سے قدم بہ قدم واقفیت
- چبانے اور منہ کے پٹھوں کی مضبوطی
- وقت کے ساتھ بہتر غذائیت
شروعات کیسے کریں
تھراپسٹ اکثر ایک نرم سی “کھانے کی سیڑھی” استعمال کرتے ہیں: پہلے بچہ نئی چیز کو اپنی پلیٹ کے قریب برداشت کرتا ہے، پھر چھوتا ہے، سونگھتا ہے، ہونٹوں سے لگاتا ہے، چکھتا ہے اور آخر میں کھاتا ہے۔ ہر بچہ اپنی رفتار سے آگے بڑھتا ہے، اور یہ سب اکثر کھیل کھیل میں ہوتا ہے۔
ویڈیو اسباق
یہ ویڈیوز ہمارے یوٹیوب چینل سے ہیں — دیکھیے اور ساتھ ساتھ عمل کیجیے۔
گھر پر یوں کیجیے
- ایک پسندیدہ چیز ضرور رکھیے جو بچہ ہمیشہ کھاتا ہے، ساتھ نئی چیز کا بس ایک ننھا سا ٹکڑا
- بچے کو نئی چیز سے کھیلنے دیجیے — چھونا، سونگھنا، توڑنا — کھانے کی کوئی زبردستی نہیں
- کھانے کا وقت پُرسکون رکھیے — مختصر اور روزانہ ایک ہی وقت پر
- بچے کو ساتھ شامل کیجیے — سبزیاں دھونا، چمچ چلانا، پلیٹ میں نکالنا
- پسندیدہ کھانے میں ذرا سی تبدیلی — نیا برانڈ، نئی شکل یا ہلکا سا مختلف ذائقہ
مفید مشورہ: بچے کو کھانے پر کبھی مجبور نہ کیجیے اور نہ ہی لالچ دیجیے — زبردستی سے کھانا اور مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر بچہ بہت کم چیزیں کھاتا ہو، وزن کم ہو رہا ہو، یا اکثر ابکائی آتی ہو یا نوالہ اٹکتا ہو تو ڈاکٹر سے بات کیجیے — فیڈنگ تھراپسٹ یا ماہرِ غذائیت مدد کر سکتے ہیں۔
ضروری بات: اس ویب سائٹ پر دی گئی معلومات عام آگاہی اور حوصلہ افزائی کے لیے ہیں، یہ ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے تشخیص اور علاج کے لیے کسی مستند ڈاکٹر، بچوں کی نشوونما کے ماہر یا تجربہ کار تھراپسٹ سے ضرور رجوع کیجیے۔