سب کے لیے

آپ کیسے ساتھ دے سکتے ہیں

ماہر ہونا ضروری نہیں۔ تھوڑی سی سمجھ، صبر اور نرم رویّہ آٹسٹک بچوں اور ان کے گھرانوں کی زندگی بہت آسان بنا دیتا ہے۔

اگر کسی بچے کو عوامی جگہ پر بے قابو ہوتے دیکھیں

دکان، شادی ہال یا مسجد میں روتا، چیختا یا کانوں پر ہاتھ رکھے بچہ شاید حد سے زیادہ شور اور ہجوم کی وجہ سے میلٹ ڈاؤن میں ہو — وہ بدتمیزی نہیں کر رہا۔ اس کے ماں باپ عموماً اپنی پوری کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ کیجیے

  • گھرانے کو جگہ دیجیے اور نرمی سے پیش آئیے
  • آہستہ سے پوچھیے: “کیا میں کسی طرح مدد کر سکتا ہوں؟”
  • قریب ہوں تو موسیقی یا شور کم کروا دیجیے
  • دوسروں کو گھورنے اور ویڈیو بنانے سے روکیے

یہ نہ کیجیے

  • گھورنا، باتیں بنانا یا ہنسنا
  • ویڈیو بنانا یا تصویریں کھینچنا
  • یہ کہنا کہ “بچے کو ذرا سختی سے سنبھالیں”
  • بچے کو ہاتھ لگانا یا اس کے گرد مجمع لگانا

دادا دادی، نانا نانی اور رشتہ داروں کے لیے

  • آٹزم کے بارے میں جانیے — یہ ویب سائٹ پڑھنا ایک اچھی شروعات ہے
  • ماں باپ کی بات پر اعتبار کیجیے۔ آٹزم ہمیشہ نظر نہیں آتا، اور “بچہ تو بالکل ٹھیک لگتا ہے” جیسے جملے دل دکھاتے ہیں
  • گھر کے وہی اصول اور معمولات اپنائیے جو والدین نے طے کیے ہیں
  • عملی مدد کیجیے: ایک وقت کا کھانا، اسکول سے لانا، یا چند گھنٹے بچے کو سنبھال لینا
  • بچے کو ویسا ہی قبول کیجیے جیسا وہ ہے، اور اسی طرح پیار دیجیے

اساتذہ اور اسکولوں کے لیے

  • تصویری ٹائم ٹیبل لگائیے اور کسی بھی تبدیلی سے پہلے بتائیے
  • چلنے پھرنے کے وقفے، ہاتھ میں رکھنے والے کھلونے یا ایک خاموش کونا مہیا کیجیے
  • ہدایات ایک ایک کر کے دیجیے
  • دوسرے بچوں کی چھیڑ چھاڑ پر نظر رکھیے اور کلاس کو مہربانی سکھائیے
  • والدین اور تھراپسٹ کے ساتھ ایک ٹیم بن کر کام کیجیے

دوستوں، پڑوسیوں اور معاشرے کے لیے

  • گھرانے کو دعوت دیتے رہیے — چاہے وہ کبھی کبھی معذرت کر لیں
  • پوچھ لیجیے کہ ان کے لیے کیا آسانی ہوگی — الگ کمرہ، بچے کا پسندیدہ کھانا یا جلدی رخصت
  • بہن بھائیوں کو بھی ساتھ شامل کیجیے؛ اکثر وہ خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں
  • بچہ جواب نہ دے، نظریں نہ ملائے یا جلدی جانا چاہے تو برا نہ مانیے
  • مساجد، دکانوں، پارکوں اور تقریبات میں پُرسکون جگہیں اور خاموش اوقات بڑی سہولت ہیں

بچوں کو آٹزم کے بارے میں کیسے بتائیں

سادہ الفاظ میں سمجھائیے: “علی کا دماغ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ تیز آوازیں اس کے کانوں کو تکلیف دیتی ہیں، اور کبھی کبھی وہ بولنے کے بجائے تصویروں سے بات کرتا ہے۔ اسے بھی کھیلنا اچھا لگتا ہے — چلو کوئی ایسا کھیل ڈھونڈیں جو اسے پسند ہو۔” جب بڑے نرمی دکھاتے ہیں تو بچے خود بخود اپنا لیتے ہیں۔

الفاظ کا خیال رکھیے

یہ کہنے کے بجائے…

  • “اسے ہوا کیا ہے؟”
  • “یہ تو بالکل نارمل لگتی ہے۔”
  • “آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔”
  • “بڑا ہو کر خود ٹھیک ہو جائے گا۔”

یوں کہیے…

  • “اپنے بچے کے بارے میں کچھ بتائیے۔”
  • “میں کسی طرح مدد کر سکتا ہوں؟”
  • “آپ بہت ہمت سے سب سنبھال رہے ہیں۔”
  • “اسے کیا اچھا لگتا ہے؟”

مفت اردو کتابچے

والدین، خاندان، اساتذہ اور معاشرے کے لیے آسان کتابچے ڈاؤن لوڈ کیجیے اور واٹس ایپ پر آگے بھیجیے۔

یہ صفحہ اپنے گھر والوں، دوستوں اور بچے کے اسکول کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔ آٹزم کو سمجھنے والا ہر شخص دنیا کو تھوڑا اور مہربان بنا دیتا ہے۔