بنیادی باتیں

آٹزم کیا ہے؟

آسان اور سچی باتیں — آٹزم کیا ہے، اور کیا نہیں۔

آٹزم کو آسان الفاظ میں سمجھیے

آٹزم (آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر) دماغ کی نشوونما کا ایک ایسا فرق ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔ اس کا اثر بچے کے بات چیت کرنے، لوگوں سے گھلنے ملنے اور آواز، روشنی یا لمس جیسی چیزوں کو محسوس کرنے کے انداز پر پڑتا ہے۔

اسے اسپیکٹرم، یعنی ایک وسیع دائرہ، اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر بچے میں اس کی شکل الگ ہوتی ہے۔ ایک بچہ سارا دن ٹرینوں کی باتیں کرتا ہے تو دوسرا ایک لفظ بھی نہیں بولتا۔ کسی کو ہر کام میں مدد چاہیے، تو کسی کو صرف بھیڑ بھاڑ یا نئی جگہوں پر۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر سو میں سے ایک بچہ آٹسٹک ہے۔ آٹزم ہر ملک، ہر قوم، ہر مذہب اور ہر طبقے میں پایا جاتا ہے — یہ کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں۔

آٹزم بچے کی کن باتوں پر اثر ڈالتا ہے

بات چیت

دیر سے بولنا یا بالکل نہ بولنا، سنے ہوئے الفاظ بار بار دہرانا، یا مذاق، لہجے اور اشاروں کا مطلب نہ سمجھ پانا۔

میل جول

نظریں ملانے، باری کا انتظار کرنے یا دوسروں کے ساتھ کھیلنے میں دشواری — حالانکہ دل میں دوستی اور پیار کی خواہش پوری ہوتی ہے۔

حواس

آواز، روشنی، کپڑے کی چبھن، ذائقہ یا خوشبو کا بہت زیادہ یا بہت کم محسوس ہونا۔ ہاتھ سکھانے والی مشین کا شور تکلیف دے سکتا ہے اور گول گول گھومنا سکون۔

معمولات اور خاص شوق

ہر کام ایک ہی طریقے سے کرنے پر اصرار، ہاتھ ہلانا یا آگے پیچھے جھولنا جیسی بار بار کی حرکات، اور کسی ایک موضوع میں حد سے زیادہ دلچسپی۔

ابتدائی نشانیاں جن پر نظر رکھیں

عام طور پر یہ نشانیاں تین سال کی عمر سے پہلے نظر آنے لگتی ہیں، البتہ کچھ بچوں — خاص طور پر بچیوں — میں آٹزم کی پہچان دیر سے ہوتی ہے۔ دیکھیے کہ کیا آپ کا بچہ:

  • ایک سال کا ہونے تک اپنا نام سن کر متوجہ نہیں ہوتا
  • سوا سال تک انگلی سے کسی چیز کی طرف اشارہ نہیں کرتا
  • ڈیڑھ سال تک گڑیا کو کھانا کھلانے یا کھلونا فون پر بات کرنے جیسے نقلی کھیل نہیں کھیلتا
  • نظریں ملانے سے کتراتا ہے یا اکیلے کھیلنا پسند کرتا ہے
  • دیر سے بولنا شروع کرتا ہے یا الفاظ بس دہراتا رہتا ہے
  • روزمرہ کی معمولی سی تبدیلی پر بہت بے چین ہو جاتا ہے
  • کھلونوں کو قطار میں لگاتا ہے یا گاڑی کے پہیے ہی گھماتا رہتا ہے
  • تیز آواز، کپڑوں، روشنی یا کچھ کھانوں پر شدید ردِعمل دیتا ہے
  • کسی بھی عمر میں سیکھے ہوئے الفاظ یا ہنر بھولنے لگے

اگر ان میں سے کچھ باتیں نظر آئیں تو ڈاکٹر سے جلد بات کیجیے۔ “ابھی چھوٹا ہے، خود ہی بولنے لگے گا” کہہ کر وقت ضائع نہ کیجیے۔ بروقت معائنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، اور جلد شروع کی گئی مدد بہت کام آتی ہے۔

آٹسٹک بچوں کی خوبیاں

آٹزم صرف مشکلات کا نام نہیں۔ بہت سے آٹسٹک بچوں اور بڑوں میں ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو انہیں منفرد بناتی ہیں:

  • حیران کن یادداشت — راستے، تاریخیں، نام اور باریک تفصیلات
  • سچائی اور انصاف کا گہرا احساس
  • پسندیدہ کام میں گھنٹوں کی یکسوئی اور مہارت
  • تصویروں میں سوچنا، ترتیب اور پیٹرن پہچاننا
  • خلوص، وفاداری اور بے لوث محبت

بچے کے شوق کو سیکھنے کا ذریعہ بنائیے — یہی سب سے کارآمد طریقہ ہے۔

آٹزم کیوں ہوتا ہے؟

اس کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ تحقیق کے مطابق اس میں موروثی (جینیاتی) عوامل کا بڑا کردار ہے، ساتھ ہی کچھ ایسے عوامل بھی جو پیدائش سے پہلے دماغ کی نشوونما پر اثر ڈالتے ہیں۔

آٹزم ماں باپ کی تربیت میں کمی، پیار کی کمی، کسی گناہ کی سزا، نظرِ بد، حفاظتی ٹیکوں یا کسی کھانے کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کا الزام ماں یا باپ پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

  1. ابتدائی جانچ: بچوں کے ڈاکٹر ڈیڑھ اور دو سال کی عمر میں M-CHAT جیسے مختصر سوالنامے سے ابتدائی اندازہ لگاتے ہیں۔
  2. تفصیلی معائنہ: بچوں کی نشوونما کے ماہر ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات یا بچوں کے سائیکاٹرسٹ بچے کو غور سے دیکھتے ہیں، آپ سے اس کی نشوونما کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ADOS-2 جیسے ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔
  3. درجہ: ڈاکٹر لیول 1، 2 یا 3 بتا سکتے ہیں، یعنی بچے کو روزمرہ زندگی میں کتنی مدد درکار ہے۔
  4. دیگر ٹیسٹ: سماعت کا ٹیسٹ اور دوسرے معائنے، تاکہ ADHD، گھبراہٹ یا نیند کی خرابی جیسے ساتھ چلنے والے مسائل کا بھی پتا چل سکے۔

اب آگے کیا کریں؟

والدین کے لیے ہماری قدم بہ قدم رہنمائی پڑھیے، پھر تھراپی ویڈیوز دیکھیے کہ آپ کے بچے کے لیے کون سی مدد کارآمد ہو سکتی ہے۔

ویڈیو اسباق

یہ ویڈیوز ہمارے یوٹیوب چینل سے ہیں — دیکھیے اور ساتھ ساتھ عمل کیجیے۔

مختصر مشورے

آٹزم کی 3 ابتدائی علامات جو والدین نظرانداز کر دیتے ہیں

مفت اردو کتابچے

والدین، خاندان، اساتذہ اور معاشرے کے لیے آسان کتابچے ڈاؤن لوڈ کیجیے اور واٹس ایپ پر آگے بھیجیے۔

ضروری بات: اس ویب سائٹ پر دی گئی معلومات عام آگاہی اور حوصلہ افزائی کے لیے ہیں، یہ ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے تشخیص اور علاج کے لیے کسی مستند ڈاکٹر، بچوں کی نشوونما کے ماہر یا تجربہ کار تھراپسٹ سے ضرور رجوع کیجیے۔